Halloween Costume ideas 2015
Articles by "کالم"

   بسمِ اللہِ الرَّحمنِ الرَّحِیم۫
ایک شخص رسول ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور اپنے باپ کی شکایت کی کہ
یارسول اللہﷺمیرا باپ مجھ سے پوچھتا نہیں اور میرا سارا مال خرچ کر دیتا ہے
آپﷺنے ان کے والدِمحترم کو بلوایا،جب اس کے والد کو پتا چلاکہ اس کے بیٹے نے
آپﷺسے میری شکایت کی ہے تو دل میں بہت رنجیدہ ہوئے اورحضورﷺکی
خدمت میں حاضری کےلیے چلے ۔۔چونکہ عرب کی گھُٹی میں شاعری تھی تو
راستے میں کچہ اشعار ذہن میں کہتے ہوئے پہنچے۔
ادھر بارگاہِ رسالت میں پہنچنے سے پہلے حضرتِ جبرائیل آپﷺکی خدمت میں
حاضرہوئے اور فرمایا کہ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا معاملہ بعد میں سنیے گا پہلے وہ اشعار
سنیں جو وہ سوچتے ہوئے آرہے ہیں۔جب وہ حاضرہوئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ
آپ کا مسئلہ بعد میں سنا جائیگا پہلے وہ اشعارسنائیے جو آپ سوچتے ہوئے آئے ہیں
یہ سن کر وہ رونے لگے کہ،جواشعارابھی میری زبان سے ادا بھی نہیں ہوئے،میرے کانوں
نے ابھی نہیں سنے۔اللہ پاک نے وہ بھی سن لیے ہیں اور آپ کو بتا بھی دیا۔۔۔۔
آپﷺنے ارشادفرمایا کہ وہ کیا اشعارتھے ہمیں سنائیں۔۔۔۔۔
ان صحابی نے اشعار پڑھنا شروع کیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو ان کا آسان ترجمہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں،کیونکہ جو اشعار تھے اور جس اعلیٰ

پائے کے تھے اور جو جذبات کی کیفیت تھی،ان کی اردو میں ترجمانی مشکل ہے

                                 
 بہرحال اشعار کچھ اس طرح تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے بیٹے۔۔۔

جس دن تو پیدا ہوا ٭٭
ہماری محنت کے دن تبھی سے شروع ہوگئے تھے۔
توروتا تھا ہم سو نہیں سکتے تھے۔۔۔
تو نیں کھاتا تو ہم کھا نہیں سکتے تھے۔۔
تو بیمار ہوجاتا تو تجھے لیے کبھی کسی طبیب کے پاس مارے مارے پھرتے تھے کہ تجھے

کہیں کچھ ہو نہ جائے۔۔
کہیں تو مر نہ جائے۔۔
حالانکہ موت الگ چیز ہے اور بیماری الگ چیز ہے۔۔۔
پھر تجھے گرمی سے بچانے کےلیے دن رات کام کرتا رہا کہ تجھے ٹھنڈی چھاؤں مل جائے۔
ٹھنڈسے بچانے کےلیے پتھر توڑے،تغاریاں اٹھائیں کہ میرے بچے کو ٹھنڈ مل جائے۔
جو کمایا تیرے لیے،جو بچایا تیرے لیے۔
تیری جوانی کے خواب دیکھنے کےلیے اتنی محنت کی کہ میری ہڈیاں تک کمزور ہوگئیں

ہیں ،اور تو کڑیل جوان بن گیا ہے۔۔۔
پھر مجھ پر خزاں نے ڈیرے ڈال لیے اور تجھ پر بہار آگئی۔
میں جھک گیا ،توسیدھا ہو گیا
اب میری خواہش پوری ہوئی کہ تو ہرا بھرا ہو گیا ہے،۔۔
چل اب زندگی کی آخری سانسیں تیری چھاؤں میں بیٹھ کر گزاروں گا،۔
مگریہ کیا تیری جوانی آتے ہی تیرے تیور بدل گئے،تیری آنکھیں ماتھے پرچڑھ گئیں
تو ایسے بات کرتا ہے کہ جیسے میراسینا پھاڑکر رکھ دیتا ہے،۔
توایسے بات کرتا ہے کہ کوئی غلام سے بھی ایسے بات نہیں کرتا،۔

پھر میں نے اپنی ساری زندگی کی محنت کو جھٹلا دیا کہ میں تیرا باپ نہیں نوکرہوں

نوکر کو بھی کوئی ایک وقت کی روٹی دے ہی دیتا ہے ،تونوکرسمجھ کر ہی دو وقت کی روٹی

دے دیا کر،۔۔۔،،،۔،۔

یہ اشعار سناتے سناتے ان کی نظر اللہ کے رسولﷺ کے چہرہِ مبارک پر پڑی تو دیکھا کہ

آپﷺ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی،۔،،۔
،
آپﷺ جلال میں اپنی جگہ سے اٹھےاور بیٹے کا گریبان پکڑکرفرمایا کہ،۔،۔
،
انت ومالک لا بیک،۔

تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے،۔،،،۔،۔

تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے،۔،،،۔،۔

تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے،۔،،،۔،۔

  (تفسیرِقرطبی)
اللہ پاک سے دعا ہے،،،۔

٭٭رَبِّ ارحمھما کما ربیانی صغیرا٭٭   

یک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے- طوطے نے مینا سے کہا “اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا” ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا- علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا “آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں”- اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا ” اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے” یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا ” یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ مینا ہے اور تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو” اس پر الو اپنے ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا “ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی- ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا” طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا- جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ مینا طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے- یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا- ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی “تنہا کہاں جا رہے ہو، اپنی بیوی تو لیتے جاؤ”- طوطے نے روتے ہوئے کہا “یہ میری بیوی کہاں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے” اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا “یہ میری نہیں، تمہاری ہی بیوی ہے، میں تو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے”

about me

{facebook#http://facebook.com/urduexpresspk} {twitter#https://twitter.com/rmkhokhar} {google-plus#https://plus.google.com/u/0/108269021046524224481} {youtube#https://www.youtube.com/channel/UCLuxDRursLIjjMlJsRqLIEg} {instagram#https://www.instagram.com/rajamujahidkhokhar}

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget