Halloween Costume ideas 2015
Latest Post

اپنے ارشدخان تو چھاگئے
اردوایکسپریس پی کے
آج کل سوشل میڈیا پر ہرطرف اسلام آباد کے چائےفروش ارشد خان کے چرچے ہیں۔ارشد خان کو سب سے زیادہ شہرت اس وقت ملی جب ان تصویر جس میں وہ چائے بناتے ہوئے نظر آتے ہیں،نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوتے ہی دھوم مچا دی،ارشد خان جن کی خوبصورت گہری آنکھیں،گورارنگ گلابی ہونٹ جس نے بھی دیکھا وہ خان کا دیوانہ ہو گیا،ارشد خان کی تصاویر کو دو دن میں بیس لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں،اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے،چائے فروش ارشد خان کی یہ تصاویر نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسائے ملک ہندوستان میں بھی کافی شہرت حاصل کر چکی ہیں،بلکہ اب تو ارشد خان کے چاہنے والے پوری دنیا سے سامنے آرہے ہیں،ارشد خان کی شہرت کا سفر یہیں پر ختم نہیں ہوا ،اسلام آباد میں خان کے ساتھ تصاویر بنوانے کیلیے لڑکیاں کثیر تعداد میں چائے کے ڈھابے پر جہاں وہ کام کرتا ہے پہنچ رہی ہیں،جبکہ خان صاحب اپنے ڈھابے سے غائب نظر آتا ہے،  ارشد خان کو اپنی شہرت کا اس وقت پتہ چلا جب اس دوستوں نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا سٹار بن چکا ہے،لالا کی خوبصورتی اور شہرت کو دیکھتے ہوئے بہت سی کمپنیاں  اپنے اشتہار میں کاسٹ کرنے کیلیے رابطے میں ہیں ،جبکہ ارشدخان کو مختلف ٹی وی شوزمیں انٹرویو کےلیے بھی مدعو کیا گیا ہے،آج صبح ۹۲ نیوز چینل پر انٹرویوکےلئےبلائے گئے ارشدخان میک اپ اور تھری پیس سوٹ میں ملبوس پہلی بارٹی وی شو میں نظر آئے،جس  میں اس کا نیا انداز دیکھنے لائق تھا،شو کے میزبان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ارشد خان کا کہناتھا کہ وہ اپنی شہرت پر بہت زیادہ خوش ہے ،اور اسے فلموں اور ڈراموں وغیرہ میں کام کرنے کی آفر ہوئی تو ضرورکرے گا،
تحریر،،،،مجاہد حسین
نیچے قارئین کی دلچسپی کےلیےارشد خان کے انٹریو کا کچھ حصہ حاضرِخدمت ہے
 

   بسمِ اللہِ الرَّحمنِ الرَّحِیم۫
ایک شخص رسول ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور اپنے باپ کی شکایت کی کہ
یارسول اللہﷺمیرا باپ مجھ سے پوچھتا نہیں اور میرا سارا مال خرچ کر دیتا ہے
آپﷺنے ان کے والدِمحترم کو بلوایا،جب اس کے والد کو پتا چلاکہ اس کے بیٹے نے
آپﷺسے میری شکایت کی ہے تو دل میں بہت رنجیدہ ہوئے اورحضورﷺکی
خدمت میں حاضری کےلیے چلے ۔۔چونکہ عرب کی گھُٹی میں شاعری تھی تو
راستے میں کچہ اشعار ذہن میں کہتے ہوئے پہنچے۔
ادھر بارگاہِ رسالت میں پہنچنے سے پہلے حضرتِ جبرائیل آپﷺکی خدمت میں
حاضرہوئے اور فرمایا کہ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا معاملہ بعد میں سنیے گا پہلے وہ اشعار
سنیں جو وہ سوچتے ہوئے آرہے ہیں۔جب وہ حاضرہوئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ
آپ کا مسئلہ بعد میں سنا جائیگا پہلے وہ اشعارسنائیے جو آپ سوچتے ہوئے آئے ہیں
یہ سن کر وہ رونے لگے کہ،جواشعارابھی میری زبان سے ادا بھی نہیں ہوئے،میرے کانوں
نے ابھی نہیں سنے۔اللہ پاک نے وہ بھی سن لیے ہیں اور آپ کو بتا بھی دیا۔۔۔۔
آپﷺنے ارشادفرمایا کہ وہ کیا اشعارتھے ہمیں سنائیں۔۔۔۔۔
ان صحابی نے اشعار پڑھنا شروع کیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو ان کا آسان ترجمہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں،کیونکہ جو اشعار تھے اور جس اعلیٰ

پائے کے تھے اور جو جذبات کی کیفیت تھی،ان کی اردو میں ترجمانی مشکل ہے

                                 
 بہرحال اشعار کچھ اس طرح تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے بیٹے۔۔۔

جس دن تو پیدا ہوا ٭٭
ہماری محنت کے دن تبھی سے شروع ہوگئے تھے۔
توروتا تھا ہم سو نہیں سکتے تھے۔۔۔
تو نیں کھاتا تو ہم کھا نہیں سکتے تھے۔۔
تو بیمار ہوجاتا تو تجھے لیے کبھی کسی طبیب کے پاس مارے مارے پھرتے تھے کہ تجھے

کہیں کچھ ہو نہ جائے۔۔
کہیں تو مر نہ جائے۔۔
حالانکہ موت الگ چیز ہے اور بیماری الگ چیز ہے۔۔۔
پھر تجھے گرمی سے بچانے کےلیے دن رات کام کرتا رہا کہ تجھے ٹھنڈی چھاؤں مل جائے۔
ٹھنڈسے بچانے کےلیے پتھر توڑے،تغاریاں اٹھائیں کہ میرے بچے کو ٹھنڈ مل جائے۔
جو کمایا تیرے لیے،جو بچایا تیرے لیے۔
تیری جوانی کے خواب دیکھنے کےلیے اتنی محنت کی کہ میری ہڈیاں تک کمزور ہوگئیں

ہیں ،اور تو کڑیل جوان بن گیا ہے۔۔۔
پھر مجھ پر خزاں نے ڈیرے ڈال لیے اور تجھ پر بہار آگئی۔
میں جھک گیا ،توسیدھا ہو گیا
اب میری خواہش پوری ہوئی کہ تو ہرا بھرا ہو گیا ہے،۔۔
چل اب زندگی کی آخری سانسیں تیری چھاؤں میں بیٹھ کر گزاروں گا،۔
مگریہ کیا تیری جوانی آتے ہی تیرے تیور بدل گئے،تیری آنکھیں ماتھے پرچڑھ گئیں
تو ایسے بات کرتا ہے کہ جیسے میراسینا پھاڑکر رکھ دیتا ہے،۔
توایسے بات کرتا ہے کہ کوئی غلام سے بھی ایسے بات نہیں کرتا،۔

پھر میں نے اپنی ساری زندگی کی محنت کو جھٹلا دیا کہ میں تیرا باپ نہیں نوکرہوں

نوکر کو بھی کوئی ایک وقت کی روٹی دے ہی دیتا ہے ،تونوکرسمجھ کر ہی دو وقت کی روٹی

دے دیا کر،۔۔۔،،،۔،۔

یہ اشعار سناتے سناتے ان کی نظر اللہ کے رسولﷺ کے چہرہِ مبارک پر پڑی تو دیکھا کہ

آپﷺ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی،۔،،۔
،
آپﷺ جلال میں اپنی جگہ سے اٹھےاور بیٹے کا گریبان پکڑکرفرمایا کہ،۔،۔
،
انت ومالک لا بیک،۔

تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے،۔،،،۔،۔

تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے،۔،،،۔،۔

تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے،۔،،،۔،۔

  (تفسیرِقرطبی)
اللہ پاک سے دعا ہے،،،۔

٭٭رَبِّ ارحمھما کما ربیانی صغیرا٭٭   


  نام نہاد جہنم کا دروازہ (Door to the Hell)
دروازہ جہنم ترکمانستان کے صوبہ آخال کے گاؤں دروازہ میں قدرتی گیس کا ایک میدان ہے جو کہ 1971 میں ٹوٹ کر ایک بڑے گڑھے میں تبدیل ہو گیا بعد میں ماہرین ارضیات نے اس جگہ کو آگ کے حوالے کر دیا تاکہ اس سے نکلنے والی زہریلی گیسوں کے اثر سے بچا جاسکے اس گڑھے کا قطر 69 میٹر اور گہرائی تیس میٹر کے لگ بھگ ہے۔ یہ علاقہ ایک سیاحتی مقام میں تبدیل ہوچکا ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں پچاس ہزار کے قریب سیاح یہاں کا دورہ کر چکے ہیں نیز وہ آس پاس کے ویران صحراء میں کیمپنگ بھی کر تے ہیں۔

ترکمانستان کے ”کاراکم“ صحرا میں آتش فشاں کا دہانہ ہے ۔ یہ جگہ دارالحکومت سے تقریباً 270 کلومیٹر دور ہے۔ جس میں گزشتہ 40 سال سے مسلسل آگ جل رہی ہے۔ اس آگ کے باعث یہ جگہ نہایت خوفناک لیکن دلچسپ منظر پیش کرتی ہے۔ مقامی افراد اسے ”جہنم کا دروازہ“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ترکمانستان کی حکومت نے اب اس جگہ کو سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے۔ ترکمانستان میں سالانہ صرف 10,000 سیاح آتے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس دلکش جگہ کو دیکھنے کے لئے خاصی بڑی تعداد میں لوگ مختلف ممالک سے آئیں گے۔

یہ آگ دراصل زیر زمین سے نکلنے والی گیس کے باعث لگی ہوئی ہے۔ 1971ءمیں گیس کے اس کنوئیں میں ”ڈرلنگ“ کے دوران ایک حادثہ ہوگیا تھا، اس وقت ترکمانستان سویت یونین کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ حادثے کے بعد ماہرین نے اس جگہ آگ لگادی کہ زہریلی گیس سے نزدیکی آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ خیال یہ تھا کہ آگ جلد ہی بجھ جائے گی لیکن قدرت کا کرنا یہ ہواکہ آگ اب تک لگی ہوئی ہے۔ 4 سال قبل حکومت نے اس 20 میٹر گہرے اور 60 میٹر چوڑے گڑھے کو مٹی سے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا لہٰذا اب اسے سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔

نیچے قارئین کی دلچسپی کیلئے یوٹیوب سے کچھ ویڈیوز لی گئی۔ انہیں بھی ضرور دیکھیں۔

پوسٹ باشکریہ
www.guldasta.pk

یک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے- طوطے نے مینا سے کہا “اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا” ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا- علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا “آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں”- اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا ” اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے” یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا ” یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ مینا ہے اور تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو” اس پر الو اپنے ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا “ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی- ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا” طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا- جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ مینا طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے- یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا- ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی “تنہا کہاں جا رہے ہو، اپنی بیوی تو لیتے جاؤ”- طوطے نے روتے ہوئے کہا “یہ میری بیوی کہاں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے” اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا “یہ میری نہیں، تمہاری ہی بیوی ہے، میں تو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے”

(اردو ایکسپریس نیوزڈیسک)

سوشل میڈیا ویب سائٹ سنیپ چیٹ ایک ایسا چشمہ متعارف کروانے جا رہی ہے  جس سے آپ دس سیکنڈ تک کی ویڈیو ریکارڈ کر سکتے ہیں یہ چشمہ خودکار طریقے سے ویڈیو سنیپ چیٹ ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیتا ہے ابتدائی ورژن میں صرف دس سیکنڈ کی ویڈیو ریکارڈ ہوتی ہے جب کہ آئندہ ورژن میں یہ ویڈیو 30 سیکنڈ یا اس سے بھی زیادہ وقت کی ریکارڈ کی جا سکے گی۔
 ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے کیمرہ لینز کے قریب  چھوٹا سا بٹن دیاگیا ہے جسے دبانے سے  ریکارڈنگ شروع ہو جاتی ہے۔ 
بلیو ٹوتھ اور وائی فائی کے ذریعے کیمرے کو موبائل ڈیوائس یا لیپ ٹاپ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ 
اس کیمرے کا امیج بلکل ایسے ہی ہے جیسے ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں۔
ویب سائٹ انتظامیہ کے مطابق کیمرہ گلاسز رواں سال کے  آخر تک فروخت کے لیے پیش کر دیے جائیں گے
جبکہ گلاسز کی قیمت تقریباً 13000 پاکستانی روپے تک ہو گی
۔

about me

{facebook#http://facebook.com/urduexpresspk} {twitter#https://twitter.com/rmkhokhar} {google-plus#https://plus.google.com/u/0/108269021046524224481} {youtube#https://www.youtube.com/channel/UCLuxDRursLIjjMlJsRqLIEg} {instagram#https://www.instagram.com/rajamujahidkhokhar}

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget